Sunday, October 28, 2012

23 مارچ اور کامران خان شو

از: سید انور محمود
23 مارچ پاکستان کے لیے اہم ترین دن ہے جسے ہم یوم پاکستان کہتے ہیں- مگر شاید جیو کے کامران خان کو یہ دن پسند نہیں اسلیے 23 مارچ کو انہوں نے سبز قمیض پہن کر اپنے پروگرام "آج کامران خان کے ساتھ" کو "آج ابوالکلام آزاد کے ساتھ" میں بدل ڈالا – اوریوم پاکستان کو اپنے طور پر یوم ابوالکلام آزاد میں بدلنے کی کوششں کی- ابوالکلام آزاد جو ایک مولوی بھی تھا اس کا پورا نام مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد تھا اور بنگال سے تعلق تھا – یہ 9 سال تک کانگریس کا صدر بھی رہا اور گاندی یا نہرو سے مسلمانوں کے حق میں ایک بات بھی نہیں منواسکا- قائد اعظم محمد على جناح اسکو کانگریس کا شو بواے کہتے تھے – یہ غدارے مسلم تھا اور ہندوں کا ساری عمر وفادار رہا حتکہ جب یہ وزیرتعلیم تھا اس وقت ہی سے ہندوستان کی تاریخ میں سے مسلمانوں کے اصل کردار غایب ہوتے رہے اور مسلمان حکمرانوں کو غاصب، لٹیرے اور حملہ آور لکھا گیا اور آج بھِی ہندوستان کی تاریخ میں یہ ہی لکھا ہوا ہے- کامران خان نے اپنے اس 37 منٹ کے پروگرام میں سے 25 منٹ قائد اعظم اور پاکستان کے دشمن ابوالکلام آزاد کی منافقانہ باتوں کو اپنی زبان سے دہراتے رہے- مگر شاید انکو اس پر ردعمل کا خیال بھی آیا ہوگا اسلیے اگلے 12 منٹ وہ ان پاکستانیوں کا ذکرکرتے رہے جن کے کارناموں سے پاکستان کا نام روشن ہوا ہے- شاید وہ اپنی بہودگی کو چھپا رہے تھے مگر شاید اتنا تو انکو پتہ ہوگا کہ ڈاکٹرعبدالسلام، ڈاکٹر قدیرخان کو سارے پاکستانی نہ صرف جانتے ہیں بلکہ اڈاکٹر قدیرخان کو محسن پاکستان کہتے ہیں- کامران خان کو ابوالکلام آزاد کا ترجمان بننے کی ضرورت کیوں ہوی یہ شاید انکو ہی پتہ ہوگا- اللہ پاکستان کو قایم رکھے- آمین- پاکستان زندہ باد-

No comments: