Monday, July 15, 2013

کراچی یا "لاوارث کراچی"؟

تاریخ: 14 جولائی 2013
از طرف: سید انور محمود
کراچی یا "لاوارث کراچی"؟


دو دن پہلےمیرئے ایک دوست کے صابزادئے شکیل بہت عرصے بعدایک کام کے سلسلے میں میرئے گھر آئے تو خیریت کے ساتھ ساتھ دوسری باتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ شکیل 1980 میں کراچی میں پیدا ہوا تھا۔ میں شکیل کو بتانے لگا کہ میری اور اُسکے والد کی دوستی بہت پرانی ہے ،ہم دونوں ہی کراچی میں پلے بڑھے ہیں۔ پھر میں نے اُس سے کراچی کا ذکر شروع کردیا اور کہنا شروع کیا کہ کراچی روشنیوں اورامن کا شہر تھا، کراچی بڑاغریب پرور شہر تھا، یہاں ہر ایک کو روزگا ر کی آسانیاں تھیں، کراچی رات کو بھی جاگتا تھا، اگر آپ کو رات کو گرم کھانا کھانے کا دل چاہے تو رات کے تین بجے گرما گرم روٹی اور نہاری مل جاتی تھی۔چوبیس گھنٹے میں کسی بھی وقت کراچی کے کسی بھی علاقے میں جہاں آپکا دل چاہے یا کوئی کام ہو آپ جاسکتے تھے۔ ایک ہی محلے میں مختلف زبانیں اور مختلف عقائد کے لوگ امن وامان سے رہتے تھے، ایک دوسرئے کی خوشی اور غم میں رشتہ داروں کی طرح شریک ہوتےتھے۔ ابھی میں کراچی کے بارئے اور بھی کچھ کہنا چاہتا تھا کہ شکیل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور مجھ سے احتجاج کے انداز میں کہنے لگا انکل شاید آپ مجھے مائی کلاچی کے زمانے کی تاریخ سنا رہے ہیں جس کو آپ کراچی کہتے ہیں اور جس سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں، میں تو اٹھارہ ملین کی آبادی کےاس شہر "لاوارث کراچی" میں رہتا ہوں اوراگر آج ان خوبیوں میں سےجو آپ نے بیان کی ہیں ایک بھی موجود ہو تو بتادیں۔ میں آج گھر سے باہر جاتے ہوئے ڈرتا ہوں کہ کوئی مجھے لوٹ نہ لے، کوئی ٹارگیٹ کلر مجھے اپنا نشانہ نہ بنالے، کسی بازار میں کوئی خودکش حملہ آور نہ آجائے، کسی مسجد میں نمازکےلیے جاتاہوں تو بم دھماکے کا خوف رہتا ہے، کسی بس میں سفر کرتا ہوں تو خوف رہتا ہے کہ اس کا گیس کا سلنڈر نہ پھٹ جائے، کسی ایسے علاقے میں نہیں جاتا جہاں دوسری زبان بولنے والے رہتے ہوں، ڈرتا ہوں مجھے میری زبان کی بنیاد پر نہ مار دیں، اور کسی دوسرئے عقیدئے والے کو اپنے عقیدہ کا پتہ نہیں ہونے دیتا کہ کہیں وہ مجھ کو مارکر جنتی نہ ہوجائے۔ آج میرئے اس شہر "لاوارث کراچی" کا حال یہ ہے کہ جس کی جب مرضی چاہے چند غنڈوں سے ہوائی فائرنگ کرواکر بازار بند کرادیتا ہے، آپ رات کو گرم کھانا کھانے کی بات کرتے ہیں یہاں کبھی کبھی دن میں بھی آٹا نہیں ملتا۔ ہرطرف موت کا رقص ہے، ہر آنکھ اشک بار، ہر دل غم زدہ ہے، مرنے والے کو نہیں پتہ اسے کیوں مارا گیا، اب تودرندوں سے نہیں انسانوں سے خوف آتا ہے۔ یہ شہر جس کے ماضی کو آپ دودھ اور شہد کی بہتی نہروں سے تشبیہ د ئے رہے ہیں آج اس میں خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں، شہر کا کوئی ایسا گھر نہیں جس کے مکین راستوں میں لیٹروں اور گھروں میں ڈاکوں سے نہ لٹے ہوں، یا پھر کوئی غیر فطری موت کا شکار نہ ہوئے ہوں۔ اور اگر خوقسمتی سے ایسا نہ ہوا ہوتو اُنکے عزیزوں اور دوست احباب میں ایسے ضرور موجود ہونگے۔

ابھی میں شکیل کی باتوں پر غور ہی کررہا تھا کہ وہ پھر مجھ سےمخاطب ہوا اور کہنے لگاآپ جس کراچی کی بات کررہے ہیں اُس میں آپ جب بھی قبرستان گے ہونگے تو آپکو قبرستان کا ایک بڑا حصہ خالی ملا ہوگا مگر اب میرئے شہر"لاوارث کراچی" میں قبرستان آباد ہوگئے بلکہ کم پڑ گے ہیں، کپڑئے میں لٹھے کا کاروبار سب سے زیادہ ہورہاہے، گورکنوں کے گھر خوشحالی آگئی ہے، مردہ خانے کم پڑ گئے ہیں،گھر ویران اور سستے مگر قبروں کی قیمتیں چار گنا ہو گئی ہیں۔ ویسے تو پورا شہر ہی ایک آفت زدہ شہر بنا ہوا ہے جہاں موت کا رقص ہر روز ہورہا ہے۔ ابلیں بھی حیران اور پریشان ہوگا کہ یہ کون ہیں جو میرا کام مجھ سے زیادہ کررہے ہیں۔میں اِسی آفت زدہ شہر "لاوارث کراچی" کے صرف ایک علاقہ لیاری کے بارئے میں آپکو بتاتا ہوں جہاں آج حکومت کی کوئی عملداری نہیں ہے۔ لیاری کراچی کا ایک بہت پرانا اور بدنصیب وہ علاقہ ہے جہاں اکژیت میں غریب لوگ رہتے ہیں۔ لیاری کے 11علاقے آگرہ تاج کالونی، بہار کالونی ، رانگیواڑہ، سنگولین، علامہ اقبال کالونی، چاکیواڑہ، شاہ بیگ لین، دریا آباد، نوا آباد، کھڈا میمن، بغدادی ہیں۔ آپ ان میں سے کسی علاقے میں بھی چلے جایں آپکو ہر طرف غربت، جہالت اور لاچاری دیکھنے کو ملے گی۔ ویسے تو پورے پاکستان کا ہی کچھ نہیں بدلا بلکہ پاکستان پیچھے چلا گیا مگر آج جو لیاری کا حال ہے اُس پر ہر پاکستانی کو فکر ہے۔لیاری میں جرائم پیشہ عناصرتو ہمیشہ سے ہی رہے ہیں مگر آج جیسی صورتحال کبھی نہ تھی۔ سندھ کےسابق صوبائی وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نے لیاری پر جو کمال مہربانی کیا آج لیاری میں رہنے والے اُس کی بھرپور قیمت ادا کررہے ہیں۔رحمان ڈکیت جیسے لوگ ذوالفقار مرزا کی ہی پیداوار ہیں اور گینگ واربھی ان ہی کی مہربانی ہے۔ جب سے سندھ میں مئی 2013 کے انتخابات کے بعد حکومت قائم ہوئی ہے، پورئے شہر میں ٹارگٹ کلنگ اور لیاری میں گینگ وار بڑھ گیں ہیں۔ یوں تو لیاری میں رہنے والا ہر شخص ہی پریشان ہے مگر اس مرتبہ بڑھتے ہوئےتشدد کا سب سے زیادہ شکار کچھی برادری کے لوگ ہوئے ہیں۔ ہزاروں پریشان حال لوگ اپنی اور اپنے گھر والوں کی زندگی بچانے کےلیےنہ صرف دوسرئے علاقوں میں چلے گے ہیں بلکہ سینکڑوں ایسے ہیں جو یا تو شہر چھوڑ کرچلے گئے ہیں یا جارہے ہیں۔ کچھی برادری کے بدین میں 450 اور بھنبور میں 150 افراد موجود ہیں جو لیاری سے نقل مکانی کرکے وہاں پہنچے ہیں، ان میں خواتین، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ ان کے گھروں پر حملے ہوئے ہیں اور حملہ آور لوگوں کے گھروں کو بھی مسمار کررہے ہیں۔ لیاری سے سینکڑوں افراد کا دوسرئے شہروں کو چلاجانا اس بات کی نشاندہی ہے کہ اُن مظلوموں کا اب اس شہر میں کوئی وارث نہیں، اور اگر اس رسم کو ابھی نہ روکا گیا تو آج لیاری تو کل کسی دوسرئے علاقے کی باری ہوگی۔ یہ کہہ کر شکیل جانے کےلیے کھڑا ہوا اور مجھےکہنے لگا انکل یہ تو صرف کراچی کے ایک علاقے کی صورتحال ہے ، باقی کراچی کا حال چاہے وہ اورنگی ہویا پٹھان کالونی، ملیر ہو یا لانڈہی سب کی صورتحال لیاری سے ملتی جلتی ہی ہے ، اس لیےآپ اسے کراچی کہیں مگر جب لوگ اپنا شہر چھوڑنے پر مجبور ہونگے تو میں آپکے کراچی کو "لاوارث کراچی" کہونگا۔

مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران سپریم کورٹ نےقائم علی شاہ کی حکومت کو نا اہل قرار دیاتھا، اگر مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت نہ ہوتی تو شاید سندھ میں گورنر راج آجاتا۔ بدنصیبی سے سندھ میں پیپلز پارٹی اپنی پانچ سالہ بری کارگردگی کے باوجود دوبارہ سندھ میں برسراقتدار ہے اورقائم علی شاہ ہی وزیراعلی ہیں۔ قائم علی شاہ کی گذشتہ 5سال میں جو کارکردگی رہی ہے وہ سب کو معلوم ہے۔ سندھ کے بڑے شہروں کے لئے کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ نہیں بنایا۔ امن و امان کی صورتحال بدترین رہی۔ اسٹریٹ کرائم کے حوالے سے کراچی سر فہرست ہے۔ کراچی کی سڑکوں پر صرف 2012 میں 2300 افراد کو ٹارگٹ کِلنگ کا نشانہ بنایا گیا، کرپشن عام رہی۔ رشوت لے کر نوکریاں دینے کا رواج عام رہا۔ کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے اسکا وہ برا حال ہے کہ یہ شہر جو کبھی امن کا گہواراہ تھا آج لاقانونیت اور لاشوں کا شہر بن چکا ہے۔ قائم علی شاہ کےپانچ سالہ دور میں کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگیٹ کلنگ سے پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان اس شہر میں عام بات تھی اور اب بھی ہے۔ سرکاری اور فوجی املاک پر حملے ، فرقہ وارانہ نفرت ، بے روز گاری اور مہنگائی اس حکومت کے تحفے تھے جو اب بھی جاری ہیں ۔ کراچی کے ان حالات کی ذمیدار نہ صرف پیپلز پارٹی کی حکومت ہے بلکہ وہ تمام سیاسی اور مذہبی سیاسی جماعتیں ذمیدارہیں جو اس شہر کی سیاست میں شامل ہیں۔ ان میں ایم کیوایم پر سب سے زیادہ ذمیداری ہے، کچھ حلقوں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ لیاری کی بدامنی میں ایم کیوایم بھی ذمیدار ہے مگر ایم کیوایم اس سے انکاری ہے، برحال نہ صرف ایم کیوایم بلکہ جماعت اسلامی، اے این پی، تحریک انصاف اور باقی دوسری جماعتوں کی ذمیداریاں کم نہیں ہیں۔ نواز شریف اورقائم علی شاہ کو کراچی چھوڑ کر بدین جانے والوں کا خیال جب آیا جب ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں یہ خبر سرفہرست بن گی۔ لاقانونیت کا شکار یہ شہر جب تک بدحالی کا شکار رہے گا جب تک صاحب اقتدار اس شہر کو سیاست سے بالاتر ہوکر اس کا علاج نہیں کرینگے، کڑوی گولیاں نگلیں پڑینگی تب ہی علاج ہوگا۔ وہ سریلے ترانے جو یہ کہتے تھے کہ ریاست ہوگی ماں کے جیسی پتہ نہیں کس نے کہے تھے۔اب بھی مرکزمیں موجود مسلم لیگ ن اور سندھ میں موجود پیپلزپارٹی نے اس شہر کے لیے کچھ نہ کیا تو پھر اس شہرپر دہشت گردوں، ٹارگیٹ کلرز، بھتہ خوروں، اسٹریٹ کرمنلز، ڈاکوں اورڈرگ مافیا کا راج ہوگا۔ پھر صرف لیاری نہیں پوری کراچی میں گینگ وار ہونگیں اور کراچی کا کوئی شہری محفوظ نہیں ہوگا، اللہ نہ کرئے اگر ایساکچھ ہوا تو پھر اس شہرکو کراچی نہیں بلکہ "لاوارث کراچی" کہنا بہتر ہوگا۔

ایبٹ آباد: کیا اسامہ زندہ تھا؟

تاریخ: 13 جولائی 2013
از طرف: سید انور محمود
ایبٹ آباد: کیا اسامہ زندہ تھا؟

دو مئی 2011 کو پاکستان کے شہر ایبٹ آبادمیں ایک ڈرامہ ہوا جس کی ہدایت کاری امریکی صدر اوبامہ کررہاتھا۔ڈرامہ کا نام تھا "اسامہ بن لادن کی موت" ڈرامہ کا آغاز آدھی رات کے بعد شروع ہوا جب چار امریکی ہیلی کاپٹر افغانستان کےشہر جلال آباد سے روانہ ہوئے اور قریبا چالیس منٹ تک پاکستان کی حدود میں بغیر کسی رکاوٹ کے پروازکرتے ہوئے ایبٹ آباد میں جہاں پاکستان کی سب سے بڑی فوجی تربیت گاہ ہے اس کے بہت قریب ہی ایک مکان کے پاس اترے ۔ ان ہیلی کاپٹروں میں امریکی کمانڈوز موجود تھے جو بغیر کسی رکاوٹ کے اس مکان میں داخل ہوئے، پانچ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا ، گھر کی تلاشی لی اور کچھ سامان اپنے قبضے میں لیا۔ ایک ہیلی کاپٹر کو خرابی کی بناہ پردھماکے سے اڑادیا، پھر پانچ لاشوں میں سے ایک لاش کو اپنے ساتھ لیا اور واپس اپنے ہیلی کاپٹر میں سوار ہوکر بڑئے اطمینان کے ساتھ جہاں سے آئے تھے وہاں واپس پہنچ گے۔ ڈرامہ کا کل دورانیہ تھا تقریبا دو گھنٹے پینتالیس منٹ۔ڈرامہ کے ہدایت کار اوبامہ نے اس ڈرامہ کے خاتمے کے چند گھنٹے بعد ہی اوٹ پٹانگ طریقے سے پوری دنیا کو مطلع کیا کہ امریکہ کا بنایا ہوا مجاہد اسامہ بن لادن جو بعد میں امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے دہشتگرد ہوگیا اسکو امریکی کمانڈوز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاک کردیا۔ امریکی صدر نے یہ خبر دیتے ہوئے کبھی کہا "مجھے اطلاع موصول ہوئی تھی"، کبھی کہا "میں نے بذات خودنگرانی کی" اور کبھی کہا کہ "میں نے حکم دیا"۔ یہ خبر پوری دنیا کےلیے اور خاصکر امریکہ اور مغربی ممالک کے لیے بہت ہی خوشی کا باعث تھی۔ اگلے دن پاکستانی صدر آصف زرداری کا ایک مضمون ایک امریکی اخبار میں شائع ہوا جس میں اس غلط امریکی کارروائی کو جائز قرار دیا بلکہ امریکہ کو تعریف و تحسین کی سند بھی دی۔ اس وقت کےوزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسے امریکہ کی عظیم کامیابی قرار دیا۔ لندن میں مقیم اس وقت کے پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن نےتو یہ انکشاف کرڈالا کہ آپریشن ہمارے تعاون سے ہوا ہے ۔ جبکہ ہماری مسلح افواج نےتین دن کے بعد چپ کا روزہ توڑا اور جو کہا وہ ناقابل اعتبار تھا۔ 

اس ڈرامے کی تیاری میں چھ ماہ کا عرصہ لگا، اس عرصہ میں اس گھر کے قریب جہاں نام نہاد اسامہ رہتا تھا امریکن ایڈپروگرام کا آفس کھولا گیا، ایک پاکستانی ڈاکڑشکیل آفریدی کو پولیو کی فرضی مہم چلانے اور علاقے کی جاسوسی کرنے کے لیے امریکی ڈالرز کے عوض خریدا گیا۔ ڈاکرا شکیل آفریدی کا امریکن ایڈپروگرام کے آفس میں آزادی سے آنا جانا تھا جہاں اُس نے امریکیوں سے تقریبا پچیس ملاقاتیں کیں۔یہ ڈرامہ اس وقت رچایا گیا جب اسامہ بن لادن کو مرئے ہوئے نوسال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا تھا۔ یہ بات ساری دنیا کو معلوم ہے کہ اسامہ بن لادن شگر اور بلڈپریشر کے مرض میں مبتلا تھا، 2001 میں ان بیماریوں کی وجہ سےاُس کے گردئے ناکارہ ہوچکے تھے اور اسکو ہر تیسرئے روز ڈالیسیز کرانا لازمی تھا، اسکے لیے ایک موبایئل ڈالیسیز مشین اسکے پاس تھی جس سے قندھار میں رہتے ہوئے اُسکا علاج ہوتا رہا۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد اسامہ بن لادن کبھی ایک جگہ نہ رہ سکا، اس کو آخری بار تورا بورا کے پہاڑوں میں دیکھا گیا۔ اگریہ فرض بھی کرلیا جائے کہ اُسکے ساتھ ایک ڈالیسیز مشین تھی تب بھی ایک ڈالیسیز مشین کےلیے بجلی کا ہونا لازمی ہے جو تورابورا کے پہاڑوں میں میسر نہیں تھی، دوسرئے ڈالیسیز کا عمل کرنے کےلیے ایک مخصوص ماحول ہوتا ہے تاکہ مریض کو انفیکشن نہ ہو، اور جن حالات کا اسامہ کو سامنا تھا اس میں اس کا علاج ناممکن تھا۔ 

اس ڈرامے کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس ڈرامے کے شروع ہونے سے پہلے ایک ویب سائٹ ایسی بھی تھی جس کووقتی طور پر ہیک کر لیا گیا اس سائٹ کا نام ہے "واٹ ریلی ہیپنڈ" یعنی اصل میں کیا ہوا۔ دو دن بعد یہ سائٹ بحال ہوگئی اور اس کے بعد سے یہ نارمل کام کررہی ہے۔ اس ویب سائٹ کو ہیک کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس ویب سائٹ پر ایسی خبریں موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت کو کافی عرصہ بیت چکا تھا۔ ان خبروں میں امریکی فوجی افسران کے بیانات، نامور اخبارات گارجین، نیویارک ٹائم، ٹیلیگراف اور معروف ٹیلی ویژن چینل سی این این ، فوکس نیوز او ر بی بی سی پر نشر ہونے والی خبریں اور انٹرویو موجود ہیں۔ اسی ویب سائٹ پر مصر سے شایع ہونے والے ایک میگزین ال وفدکے 26 دسمبر 2001 کی ایک خبرکا عکس بھی موجود ہے جس میں واضع طور پر کہا گیا ہے کہ اسامہ بن لادن کا انتقال دس روز قبل ہوچکا ہے۔ برطانیہ کا اخبار ٹیلیگراف 28 دسمبر2001 میں لکھتا ہے کہ پینٹاگون کے مطابق 14 دسمبر تک خفیہ ادارئے تورابوراپر موجود اسامہ بن لادن کی آواز کو ریڈیو کے زریعے مستقل سنتے رہے مگر اُس کے بعد نہیں، اور صدر بش نے یہ اشارہ بھی دیا کہ شایدبن لادن کی خاموشی اس لیے ہو کہ وہ مرچکاہے۔ نیویارک ٹائم نے اپنی 11 جولائی 2002 کی اشاعت میں لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن جو ہمیشہ خبروں میں رہنا پسند کرتا ہے چاہے اُس نے کچھ بھی نہ کیا ہوگذشتہ نو ماہ سے خاموش ہے۔ 26 جولائی 2001 کو فوکس نیوز نے روزنامہ پاکستان آبزرور کے حوالے سے بتایا کہ اسامہ بن لادن مرچکا ہے۔ فوکس نیوز نے بتایا تھا کہ گردوں کے مرض میں مبتلا اسامہ بن لادن علاج نہ ہونے کی وجہ سے مرچکا ہے ، یہ بات ایک طالبان لیڈر نے بتائی جو اسکی تدفین میں شریک تھا۔ بقول فوکس نیوز افغانستان میں موجود کولیشن ٹروپس جو اسامہ کو تلاش کررہے ہیں وہ اب کبھی بھی القائدہ کے رہنما کو زندہ یا مردہ تلاش نہیں کرپاینگے۔

الجزیرٹی وی نے 27 جولائی 2001 کواسامہ بن لادن کی ایک ویڈیو ٹیپ چلائی جس میں واضع نظر آرہا ہے کہ اسامہ بہت بیمار ہے،بعد میں جب یہ ٹیپ سی این این پر چلی تو ٹیلیگراف کے مطابق بش انتظامیہ نے اسکو جعلی قرار دیا کہ اس میں ماسک کا استمال کیا گیا ہے اور اسامہ مرچکا ہے، شاید یہ اسامہ کا حکم ہو کہ اُسکے مرنے کے بعد یہ ٹیپ چلائی جائے۔ سی این این نے اس وقت کے پاکستانی صدر پرویز مشرف کے حوالے سے بتایا کہ شاید اسامہ تورابورا میں مرچکا ہے، افغانی صدر حامد کرزئی نے بھی کہا کہ ممکن ہے اسامہ مرچکا ہے، جبکہ ملا عمر زندہ ہے۔ ایف بی آئی کے ٹریرزم کاونٹر کے سربراہ ڈیلی واٹسن نے بھی بی بی سی سے یہ ہی کہا تھا کہ شاید اسامہ مرچکا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق 2001 میں سعودی عرب کے انگریزی اخبار عرب نیوز کے لندن آفس کے ایڈیٹر انچیف نے اخبار میں لکھا تھا کہ اسامہ مرگیا ہے یا مرنے والا ہے۔ افغانستان میں طالبان کو منظم کرنے والے افسانوی شہرت کے حامل سابق فوجی افسر امیر سلطان تارڑ نے افغانستان میں فرائض کی بجا آوری کے دوران کرنل امام کا فرضی نام اختیار کیا تھا۔ وہ آئی ایس آئی کے ان افسران میں شامل تھے جنہوں نے سوویت فوجوں کے خلاف نام نہاد جہاد کیلئے افغان مجاہدین کی براہ راست بھرتی کی تھی۔ان کے نام نہاد جہادی شاگردوں میں افغان طالبان کا سربراہ ملا عمر بھی شامل ہے۔ پاکستان کے ایک صحافی چودھری ذبیح اللہ بلگن کی اس بات کونظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کرنل امام نے ایک ٹی وی انٹرویو میں اُنکو ایبٹ آباد واقعہ سے تین سال قبل بتلایا کہ وہ خود اسامہ بن لادن کے جنازے اور تدفین میں شریک ہو چکے ہیں ۔ اسامہ کو گردے کا عارضہ تھا وہ تمامتر علاج کے باوجود اس مرض سے صحت یاب نہ ہو سکا اور اس کا انتقال ہوگیا ۔ اُسکو افغانستان کے ایک گاؤں میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ اگر اوپر بیان کی گی تفصیلات سچ ہیں تو دو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ اوبامہ نے یہ ڈرامہ کیوں کیا ؟ اور ایبٹ آباد میں مارا جانے والا شخص کون تھا ؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایبٹ آباد کمیشن ان دو سوالوں کا جواب تلاش کرتا مگر وہ دوسری طرف نکل گیا جس کی وجہ سے اس کمیشن کی رپورٹ بے مقصد ہے۔ اب کمیشن سے پاکستانی قوم کا ایک سوال ہے کہ "کیا ایبٹ آباد آپریشن کے وقت اسامہ بن لادن زندہ تھا؟"۔

دوستوں ایبٹ آباد آپریشن کی حقیقت جاننا کوئی مشکل کام نہیں بس تھوڑی سی تحقیق کی ضرروت ہے۔ ایک سوال کہ "اوبامہ نے یہ ڈرامہ کیوں کیا؟" اسکا جواب آپکو میرئے اگلے مضمون میں مل جائے گا۔