Sunday, October 28, 2012

گل مکئی ملالہ یوسف زئی اللہ تعالی تمیں سلامت رکھے

از: سید انور محموُد
پاکستان کی 14 سالہ ستارہ جرات یافتہ طالبہ، بہادر بیٹی ملالہ یوسف زئی طالبان دہشتگردوں کی دہشت گردی کا شکار ہوکر اس وقت ہسپتال میں ہے اور پاکستان کا ہر شخص اُسکے لیے دعا گو ہے- برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سروس کے لیے گل مکئی کے نام سے سوات سے ڈائریاں لکھنے والی اس طالبہ ملالہ یوسف زئی کا تعلق سوات کے صدر مقام مینگورہ سے ہے۔ سوات میں سنہ دو ہزار نو میں فوجی آپریشن سے پہلے حالات انتہائی کشیدہ تھے اور شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی جنگجو وادی کے بیشتر علاقوں پر قابض تھے جبکہ لڑکیوں کی تعلیم پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی۔ ان حالات میں ملالہ یوسف زئی نے کمسن ہوتے ہوئے بھی انتہائی جرت کا مظاہرہ کیا اور مینگورہ سے ’گل مکئی‘ کے فرضی نام سے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو سروس کےلیے ڈائری لکھی جس میں وہ سوات میں پیش آنے والے واقعات بیان کیا کرتی تھیں۔ ہالینڈ کی بین الاقوامی تنظیم’ ِکڈز رائٹس‘ کی طرف سے۔ انہیں دو ہزار گیارہ میں ’انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ وہ پہلی پاکستانی کم سن لڑکی ہیں جنھیں اس ایوارڈ کےلیے نامزد کیا گیا ہے۔حکومتِ پاکستان نے انہیں سوات میں طالبان دہشت گردوں کے عروج کے دور میں بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر نقد انعام اور ستارہ جرات بھی دیا تھا۔ سوات میں 2009 میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد ملالہ یوسف زئی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں اُس وقت خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ’’زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں کہ طالبان کے اعلٰی کمانڈر ابھی زندہ ہیں اور وہ دوبارہ منظم ہو سکتے ہیں۔ ابھی زیادہ خوف نہیں ہے لیکن کبھی کبھی ہم ڈر جاتے ہیں کہ کہیں ایسا نا ہو کہ طالبان پھر آ جائیں‘‘ اور طالبان دہشتگردوں کے آج کے ان پر ہونے والے حملے نے اس خدشہ کو درست ثابت کردیا۔ آخر کیا قصور تھا اس معصوم، کیا یہ قصور کہ وہ بچیوں کی تعلیم کےلیے عملی جہدوجہد کررہی ہے - گل مکئی کا کہنا تھا کہ اگر لڑکیاں تعلیم حاصل نہیں کریں گی تو نہ ہی کوئی لیڈی ڈاکٹر ہوگی اور نہ استانی۔ مگر اُس کی خواہش ہے کہ وہ ایک سیاست دان بنیں۔ اسکا سب سے بڑا قصوریہ ہے کہ وہ طالبان دہشت گردوں کو دہشت گرد ہی کہتی ہے- آج جب پاکستانی سیاست میں منافقت عام ہے اور ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے کے بعد پاکستان کی کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے مذمتی بیان سامنے آئے ہیں لیکن صرف عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور متحدہ قومی موومنٹ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والی تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کھل کر اس حملے کی فوری طور پر اور شدید الفاظ میں مذمت کی- باقی صدر، وزیراعظم، شریف برادران، عمران خان اورباقی سب کو طالبان کا اسقدر خوف ہے کہ صرف مذمت سے ہی کام چلالیا- باقی رہ گی جمات اسلامی وہ کیوں بولے گی اسکی تو طالبان دوستی سب کو معلوم ہے- مولانا فضل الرحمان کا کہیں دور دور پتہ نہیں- عافیہ صدیقی پر اگر امریکہ نے ظلم کیا تو غلط، جی ہاں بلکل غلط مگر اے مصلحت پسند سیاستدانوں ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے پر طالبان کی مذمت کرنے پر کیا مصلحت ہے۔ کا لعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسف زئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘۔اول تو یہ الزام ہی جھوٹا ہے اور اس الزام کی سزا ایک چودہ سالہ بچی کےلیے یہ ہے تو پھر وقت آ گیا ہے طالبان دہشت گردوں کے خلاف شمالی وزیرستان سمیت پاکستان کے دیگر علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ان دہشت گردوں کو کھلا چھوڑنا پاکستان کے ہر گز مفاد میں نہیں- آیےَ ہم سب ملکر دعا کریں کہ اللہ تعالی ملالہ یوسف زئی کو جلد از جلد مکمل صحتیابی عطافرماےَ۔ آمین

علامہ محمد اقبال کی دعایہ نظم اور گل مکئی ملالہ یوسف زئی

ازطرف: سید انور محموُد
علامہ محمد اقبال نے بچوں کے لیے ایک دعایہ نظم " لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" لکھی تھی – آج مجھے اِیسا لگ رہا ہے کہ اقبال نے شایدیہ نظم گل مکئی جیسے بچوں کیلے لکھی تھی-
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
دعا خدا كے نزدیك سب سے پسندیدہ عمل٬ میں پوری پاکستانی قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ملالہ یوسف زئی کے لیے اُس کی مکمل صحتیابی کے لیے دعا کریں-
پیاری بیٹی ملالہ اللہ تعالی تم کو جلد مکمل صحتیابی عطا کرے ، آمین اور تم پوری قوم کو علامہ اقبال کی نظم " لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری" زور زور سےسنانا اور اتنی زور سےسنانا کہ دہشتگرخوف سے نیست ونابود ہوجایں- کیونکہ اب ہم پاکستانیوں کو تم جیسے بچوں میں ہی روشنی کی کرن نظر آتی ہے- گل مکئی پوری قوم تماری مکمل صحتیابی کے لیے دعاگو ہے-
طالبان دہشت گردوں اور اُن کے حواریوں تم بہت بزدل ہوایک نہتی اور معصوم بچی پر حملہ کرتے ہو پھر بزدلوں کی طرح چھپ جاتے ہو- آج پوری قوم تمارے خلاف سراپا احتجاج ہے- تم مسلمان تو کیا انسان بھی کہلانے کے لایق نہیں ہو- ایک پیغام تمارے لیے ہے کہ تم کچھ بھی کرلو اس قوم کو نہیں ہراسکتے جہاں ملامہ جیسی بچییاں موجود ہوں- پاکستان زندہ باد

سیاسی لٹیروں کا کیسا یہ دور ہے

از: سید انور محمود
سیاسی لٹیروں کا کیسا یہ دور ہے
کرپشن، کرپشن، کرپشن کا دور ہے
بچپن میں کہانیاں بڑے شوق سے سنا کرتے تھے ۔ يہ کہانياں گو مبالغہ آميز ہوتيں ليکن اپنے اندر ايک سبق لئے ہوئے بچوں اور بڑوں کيلئے بھی تربيت کا ايک طريقہ ہوتی تھيں۔
ايک کہانی جو عام تھی يہ کہ ايک ملک کا بادشاہ مر گيا۔ شورٰی نے فيصلہ کيا کہ جو شخص فلاں دن صبح سويرے سب سے پہلے شہر ميں داخل ہو گا اُسے بادشاہ بنا ديا جائے گا ۔ اس دن سب سے پہلے ايک فقير داخل ہوا سو اُسے بادشاہ بنا ديا گيا۔ فقير کو حلوہ کھانے کا بہت شوق تھا۔ اس نے حلوہ پکانے کا حُکم ديا اور خوب حلوہ کھايا۔ دوسرے دن پھر حلوہ پکوايا اور خوب کھايا۔ فقير حلوہ پکوانے اور کھانے ميں لگا رہا۔ سلطنت کے اہلکار حلوے کا بندوبست کرنے ميں لگے رہے اور ملک تباہ ہو گيا۔ جب فقیرکو پتہ چلا کہ اب سلطنت اس قابل نہیں کہ اُسکو مزید حلوہ کہلاسکے اُس نے اپنا کشکول اٹھایا اور یہ کہتا ہوا کہ جس کا ملک وہ ہی رکھیں اور پھر بھيک مانگنے چل پڑا۔
اس کہانی کولکھنے کا مقصد تو يہ تھا کہ فيصلے عقل سے ہونے چاہئيں اور آیندہ حلوہ کھانے والے فقير سے بچاجاے۔ حد تو یہ ہے کہ اُنہيں بھی کوئی قصوروار نہيں کہتا جو ملک و قوم کو بھول کر حريص بادشاہ کی خوشامد ميں لگے رہے اور اپنے مناصب کا کام نہ کيا جس سے ملک تباہ ہوا اور قوم بدحال۔
لٹیروں کا ہی دور ہے لٹیروں کا ہی زور ہے 
لٹیروں سے بندھی ہوی لٹیروں کی ڈور ہے
یہاں سیاست میں ملاوں کا بھی بڑا زور ہے
نشاں کوی بھی ہو لٹیروں کا ہی دور ہے
آج پورے ملک میں امن و امان کی حالت خراب ۔ کمر توڑ مہنگائی اور قومی دولت کی لُوٹ مار ہے ۔ لاکھوں گھروں میں نہ بجلی ہے نہ پانی اور نہ ہی گیس ۔ کارخانوں کے لاکھوں مزدور اور ہُنر مند دو وقت کی روٹی اور پانی بجلی گیس کے بلوں کی ادائیگیوں کیلئے ذلت کی انتہائی گہرائیوں میں گر چکے ہیں ۔ سرکاری دفاتر ميں بغیر رشوت دیئے جائز کام بھی نہیں ہوتے ۔ نہ گھروں میں لوگ چوروں ڈاکوؤں سے محفوظ ہیں اور نہ ہی سڑکوں بازاروں میں۔
کرپشن نے لکھی ہے ساری کہانی
بنا رشوت نہ بجلی ہے نہ پانی
یہاں سانس لینے کی قیمت لگے گی
گھروں سے نکلتے ہی رشوت لگے گی
غریب آدمی سے ملک کی موجودہ بد تر حالت کو تبدیل کرنے کیلئے باہر نکلنے کو کہیں تو وہ کہتے ہیں ہم میں تو طاقت ہی نہیں ہے۔ مڈل کلاس والوں سے کہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ان کے پاس تو وقت ہی نہیں ہے۔ اور امیر کو کوئی ضرروت ہی نہیں ہے۔ سب شائد یہ بھول گئے ہیں کہ جب آگ بھڑک اُٹھے اور سب مل کر اسے نہ بجھائیں تو وہاں رہنے والے سب برباد ہو جاتے ہیں۔ پھر نہ کوی غریب رہے گا اور نہ مڈل کلاس اور امیر۔ اٹھو اب بھی وقت ہے کہ اس علی بابا اور چالیس چوروں کے ٹولے کو حلوہ کھانے سے روکو ورنہ حلوہ تو کیا حلوہ کا برتن بھی نہیں بچے گا۔
نہ قاید کے اقوال سلامت رہے
نہ اقبال کے خواب سلامت رہے
لڑای ابھی ہم کو رکھنی ہے جاری
ہے آزادی اب تک ادھوری ہماری
اُمید نہِیں وہ اپنے گیرباں میں جھانکیں
دعا ہے اب عوام کی ہی کھل جایں آنکھیں
خدارا اب لازمی جلد عوامی انقلاب لاوُ
معیشت کے ان دہشت گردوں کا بھگاؤ
سیاسی لٹیروں کا کیسا یہ دور ہے
کرپشن، کرپشن، کرپشن کا دور ہے
--------------------------------------
پاکستان زندہ باد – پاکستان پایندہ باد

23 مارچ اور کامران خان شو

از: سید انور محمود
23 مارچ پاکستان کے لیے اہم ترین دن ہے جسے ہم یوم پاکستان کہتے ہیں- مگر شاید جیو کے کامران خان کو یہ دن پسند نہیں اسلیے 23 مارچ کو انہوں نے سبز قمیض پہن کر اپنے پروگرام "آج کامران خان کے ساتھ" کو "آج ابوالکلام آزاد کے ساتھ" میں بدل ڈالا – اوریوم پاکستان کو اپنے طور پر یوم ابوالکلام آزاد میں بدلنے کی کوششں کی- ابوالکلام آزاد جو ایک مولوی بھی تھا اس کا پورا نام مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد تھا اور بنگال سے تعلق تھا – یہ 9 سال تک کانگریس کا صدر بھی رہا اور گاندی یا نہرو سے مسلمانوں کے حق میں ایک بات بھی نہیں منواسکا- قائد اعظم محمد على جناح اسکو کانگریس کا شو بواے کہتے تھے – یہ غدارے مسلم تھا اور ہندوں کا ساری عمر وفادار رہا حتکہ جب یہ وزیرتعلیم تھا اس وقت ہی سے ہندوستان کی تاریخ میں سے مسلمانوں کے اصل کردار غایب ہوتے رہے اور مسلمان حکمرانوں کو غاصب، لٹیرے اور حملہ آور لکھا گیا اور آج بھِی ہندوستان کی تاریخ میں یہ ہی لکھا ہوا ہے- کامران خان نے اپنے اس 37 منٹ کے پروگرام میں سے 25 منٹ قائد اعظم اور پاکستان کے دشمن ابوالکلام آزاد کی منافقانہ باتوں کو اپنی زبان سے دہراتے رہے- مگر شاید انکو اس پر ردعمل کا خیال بھی آیا ہوگا اسلیے اگلے 12 منٹ وہ ان پاکستانیوں کا ذکرکرتے رہے جن کے کارناموں سے پاکستان کا نام روشن ہوا ہے- شاید وہ اپنی بہودگی کو چھپا رہے تھے مگر شاید اتنا تو انکو پتہ ہوگا کہ ڈاکٹرعبدالسلام، ڈاکٹر قدیرخان کو سارے پاکستانی نہ صرف جانتے ہیں بلکہ اڈاکٹر قدیرخان کو محسن پاکستان کہتے ہیں- کامران خان کو ابوالکلام آزاد کا ترجمان بننے کی ضرورت کیوں ہوی یہ شاید انکو ہی پتہ ہوگا- اللہ پاکستان کو قایم رکھے- آمین- پاکستان زندہ باد-

دہری شہریت

دہری شہریت
از: سید انور محمود - کراچی
اب سے کوی پانچ سال پہلے پی آی اے کی پرواز جو جدہ جارہی تھی میں بھی اُس میں سفر کررہا تھا – پرواز کے ایک گھنٹے بعد ایرہوسٹس نے کھانا دینا شروع کیا اور جب وہ میرے برابر والے صاب کے کھانے کی میز کھولنے لگی تو اُن صاب نے ایرہوسٹس کو بتایا کہ وہ کھانا نہیں کھاینگے اور وہ دل کے مریض ہیں اور اِس وقت اُن کی طبیت بہت خراب ہورہی ہے، ایرہوسٹس نے اپنے سپروازر کو اطلاع کری وہ صاب میڈیکل میں اچھی معلومات رکھتے تھے، باتوں سے پتہ چلا کہ وہ اپنے گاوں سے تین دن پہلے کراچی آگے تھے اور ڈاکٹر کو دکھایا تھا اور ڈاکٹر نے اُن کو کچھ ٹیسٹ بتاے تھے مگر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ جہاز میں بیٹھ گے- سعودی عرب کے ایک شہر قسیم میں ایک بقالہ میں 1200 ریال یعنی 40 ریال روزانہ پر کام کرتے ہیں یا تھے- ہر ماہ 1200 ریال میں سے 1100 ریال پاکستان بھیج رہے تھے۔ یہ صاب صرف پاکستانی تھے اور سعودی عرب میں تھے اور اُنکو دہری شہریت کا بخار بلکل نہیں تھا۔ یاد رہے سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ پاکستانی تارکین کام کرتے ہیں اور جہاں تک باہر سے رقوم بھيجنے کا معاملہ ہے تو سعودي عرب ميں مقيم پاکستاني تارکين سرفہرست ہيں۔ گذشتہ سال کل آنے والی رقم 10.2 ارب ڈالر میں سے سعودي عرب سے 2987.9 ملين ڈالر (27.5فيصد)، امريکا سے 1922.4 ملين ڈالر (17.7 فيصد)، برطانيہ سے صرف 1263.7 ملين ڈالر (11.6فيصد) ہے۔ مشرق وسطي، دیگر عرب اور افریقی ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی دہری شہریت کا بخارسرے سے نہیں ہے۔ سب کو نہیں ایک مخصوص ٹولے کو جو برطانیہ اور امریکہ میں رہتا ہے اُسکو دہری شہریت کا بخار آجکل شدت سے چٹرھا ہوا ہے- کیونکہ انکے مفادات پر عدالت عظمٰی نے چوٹ لگای ہے۔ اب تک دوہری شہریت کے حامل قومی اسمبلی کے چار، سینیٹ کے ایک اور صوبائی اسمبلیوں کے چار اراکین کی رکنیت معطل کر چکی ہے، ان میں سے اکثریت کا تعلق حکمران پیپلز پارٹی ہے۔ جن اراکین پارلیمان کی رکنیت معطل کی گئی ہے ان میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور صدر زرداری کی میڈیا کوارڈینیٹر فرح ناز اصفہانی بھی شامل ہیں۔ اور یہ زرداری کے عزیز ترین ساتھی ہیں۔ 
معاملہ يہ ہے کہ دہري شہريت کے حامل افراد ميں سے اکثر بيرون ملک رہائش رکھتے ہيں يا پھر محض پاکستان ميں اہم حکومتي عہدوں کا حصول کرنے کیلے آتے ہیں مگر بنيادي طور پر اپنے تعلقات امريکا، کينيڈا، برطانيہ جيسي رياستوں يا يورپي ممالک سے منقطع نہيں کرنا چاہتے۔ اسی طبقہ سے تعلق رکھنے والے چند اور عناصر ہيں جو يہ دليل ديتے ہيں کہ اگر پاکستان طالبان اور عرب باشندوں کو اپنے اندر رہنے اور تخريب کاري کي اجازت دے سکتا ہے تو پھر انہيں دہري شہريت کي اجازت دينے ميں کيا مسئلہ ہے؟ واہ کیا بات ہے یعنی پاکستان دہشت گردوں کو بھی اجازت دے دے کہ وہ بھی وزیر سفیر بن جایں جبکہ پاکستاني باشندے دہشت گرد عناصر کا سامنا کررہے ہيں اور بے شمار قربانياں پيش کررہے ہيں، پاکستاني باشندے اور سکيورٹي فورسز ان دہشت گردوں اور غير ملکي عناصر سے لڑ رہے ہيں-
روزنامہ جنگ بتاریخ 6 جولای میں احمد نوراني نے دُہري شہريت والوں کا اصل مسئلہ کيا ہے؟ کے عنوان سے لکھا ہے ایک جگہ وہ لکھتے ہیں " دہري شہريت کے بيشتر حامي جو کچھ پاکستان ميں اور کچھ غير ممالک ميں مقيم ہيں ہر قيمت پر امريکي موقف کي حمايت اور اسلام آباد کے اقدامات کي مخالفت کررہے ہيں خواہ يہ کيري لوگر بل کا معاملہ ہو، دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا معاملہ ہو ، وزيرستان آپريشن اور نيٹو سپلائي کي بحالي کا معاملہ، ريمنڈ ڈيوس کا معاملہ ہو يا کچھ اوروہ اپني تحريروں اور دلائل ميں واشنگٹن کے موقف کي کھلي حمايت کرتے ہيں"۔
امید ہے آپ سمجھ گے ہونگے کون ہیں جو عدالت عظمٰی کے فیصلے پر بلبلا رہے ہیں ان کی بدقسمتی کے زرداری کے پاس صرف ایک شہریت ہے ورنہ عدالت عظمٰی کے اس فیصلے پربھی اسپیکر قومی اسمبلی کہہ دیتی میں نہیں مانتی، میں نہیں مانتی۔